شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سمیت پی ٹی آئی کے نظر بند رہنما و کارکنان رہا

Published On 04 March,2023 03:31 am

لاہور : ( دنیا نیوز ) لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری جنرل اسد عمر سمیت پارٹی کے 83 نظر بند رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا ، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ ، سابق صوبائی وزیر مراد راس اور سینیٹر ولید اقبال بھی رہائی پانے والوں میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روزلاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی ’ جیل بھرو تحریک ‘ میں گرفتار ہونے والے رہنماؤں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

شاہ محمود قریشی اٹک جیل سے رہا

عدالتی حکم کے بعد شاہ محمود قریشی کو اٹک ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کیا گیا، ان کے بیٹے اور سابق ممبر قومی اسمبلی ( ایم این اے ) زین قریشی، بیٹی مہربانو قریشی، میجر طاہر صادق، سید یاور بخاری، قاضی احمد اکبر اور دیگر رہنماؤں نے جیل کے باہر ان کا استقبال کیا اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

جیل سے رہائی کے بعد شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تمام اسیران کو مبارکباد دیتا ہوں کسی نے گھٹنے نہیں ٹیکے، ہمارے حوصلے پست نہیں بلند ہوئے ہیں، سوچ سمجھ کر پاکستان کے آئین کے لئے گرفتاری دی اور آئین کی پاسداری کے لئے پی ٹی آئی نے نیا باب رقم کیا ہے، گرفتاری دے کر خوف کا بت توڑا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم عدلیہ کا سنہری فیصلہ ہے، پنجاب میں ہماری حکومت بنی تو جیل اصلاحات لائیں گے، عمران خان سے کہوں گا صرف وزیر اعظم نہیں بننا قوم بنانی ہے۔

اسد عمر راجن پور جیل سے رہا

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کو راجن پور جیل سے رہا کیا گیا جہاں وہ گزشتہ دس روز سے نظر بند تھے، پی ٹی آئی رہنما عون عباس بپی سمیت راجن پور، روجھان، جام پور، ڈیرہ غازی خان سے پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے جیل کے باہر موجود تھی، کارکنان نے پارٹی چیئرمین عمران خان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

اس موقع پر اسد عمر نے کہا کہ جیل جانے پر فخر ہے، بند کمروں میں ہونے والے فیصلے ختم ہونے جا رہے ہیں۔

سرفراز چیمہ بھکر جیل سے رہا

علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ڈسٹرکٹ جیل بھکر سے رہا کیا گیا۔

عمر سرفراز چیمہ کو 22 فروری کو شروع کی گئی جیل بھرو تحریک کے پہلے دن لاہور سے گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل بھکر منتقل کر دیا گیا تھا، جیل سے رہائی پر پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔

زلفی بخاری شاہ پور جیل سے رہا

شاہ پور جیل سے  زلفی بخاری، فیاض الحسن چوہان، اور صداقت اعوان سمیت دیگر رہنماؤں کو بھی رہا کر دیا گیا، پارٹی کے حامیوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے جیل کے باہر جمع ہوئی۔

اس موقع پر زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ جیل بھرو تحریک شاندار کامیابی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان انتخابی مہم کا آغاز کریں گے اور وہ اس کا حصہ ہوں گے۔

گرشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے یہ حکم پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فواد چودھری کی درخواست پر جاری کیا تھا۔

طارق سلیم شیخ نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 مارچ تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔

پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری نے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پارٹی کے 320 سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی نظربندی ختم کر کے ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا تھا اور اس اقدام پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو نظربندی کے لیے پیش کیا تھا۔

اس اقدام کے بعد پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی سمیت مختلف لوگوں کی جانب سے اپنے والد اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظر بندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کی گئیں۔

یاد رہے کہ دو روز قبل پی ٹی آئی چیئرمین نے جیل بھرو تحریک ختم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ ہفتہ ( آج ) سے انتخابی مہم شروع کریں گے۔