کراچی: (دنیا نیوز) بینکنگ سیکٹر پر ونڈ فال ٹیکس کے نفاذ کے خلاف درخواست، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے ونڈ فال ٹیکس کے نفاذ کے خلاف درخواستیں مسترد کر دیں، عدالت نے 34 ارب ٹیکس وصولی کے خلاف حکم امتناع بھی ختم کر دیا، تحریری فیصلے کے مطابق فارن کرنسی کی قیمتوں میں تبدیلی سے بینک کو ملنے والے منافع پر ونڈ فال ٹیکس کا نفاذ کیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت سے حکم امتناع کے ذریعے ٹیکس وصولی کو معطل کیا گیا، ونڈ فال ٹیکس کا نفاذ ملکی و غیر ملکی سطح پر کوئی نئی چیز نہیں، فنانس ایکٹ 2023 کے تحت مخصوص انکم اور منافع پر اضافی ٹیکس نافذ کیا گیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ وکیل درخواست گزار نےاپنے دلائل میں ٹیکس کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیا، وکیل درخواست گزار کے مطابق قائم مقام حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں بحث کئے بغیر ٹیکس کا نفاذ کیا گیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق آئینی عدالتوں کو قانون کو غیر آئینی قرار دینے کا اختیار حاصل ہے، تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون سازی آئین سے متصادم ہو، عدالت کو قانون سازی کی آئینی حیثیت کے علاوہ کسی معاملے سے سروکار نہیں۔
فیصلے کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 99D کی معطلی کے لئے آئین سے متصادم ہونا ضروری ہے، درخواست گزاروں کے وکلا کے دلائل میں تضاد پایا گیا، آئین کے تحت پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق وکیل درخواست گزار سے پوچھا گیا کہ سیکشن 99D کس طرح آرٹیکل 25 سے متصادم ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ خدشات ہیں کہ قانون کا امتیازی سلوک کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
فیصلے کے مطابق صرف خدشات کی بنا پر کسی قانون کو معطل نہیں کیا جاسکتا، قائم مقام حکومت عوامی مفادات میں ضروری فنکشنز کی ادائیگی کے لئے اقدامات کرسکتی ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق وکیل درخواست گزار نے ٹیکس نفاذ کو ایک ماہ کے لئے معطل کرنے کی زبانی استدعا کی، عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ سپریم کورٹ قانون سازی کو معطل کرنے کے حکم امتناع کو ناپسند کرتی ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نے 20 فروری کو درخواستوں کا مختصر فیصلہ سنایا تھا، عدالت نے آج درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔