پاور سیکٹر کے سیاست پر اثرات

Published On 03 April,2025 11:38 am

اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) آئندہ انتخابات بجلی کی قیمتوں کے بیانیے پر لڑے جائیں گے کیونکہ مہنگی بجلی نے نہ صرف ملکی معیشت کو برُی طرح متاثر کیا ہے بلکہ عام آدمی کی زندگی کو بھی اجیرن بنا رکھا ہے، موجودہ حکمران جماعت کو اندازہ ہے کہ بجلی کے نرخوں کی یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام کے پاس نہیں جایا جاسکے گا۔

مگر ماضی کے برعکس اس مرتبہ ریلیف دینا حکومت کیلئے اس لئے آسان نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنا ناگزیر ہے اور اس پروگرام کو جاری رکھنے کیلئے عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط ماننی ہیں، پاور سیکٹر میں ناقص گورننس، بجلی چوری اور نان ریکوری کے باعث خسارہ 700 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

آئی پی پیز کے معاہدوں کے باعث سرکلر ڈیٹ اڑھائی ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے اور اس میں اضافہ جاری ہے، یہ خسارہ اور سرکلر ڈیٹ پاور سیکٹر میں اصلاحات لائے بغیر ختم تو دور کی بات کم بھی نہیں ہو سکتا، ایسے میں آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر عام صارف کو ریلیف دینا ہے تو رقم کہاں سے آئے گی، صرف یہی نہیں ، اس بات پر بھی مطمئن کرنا ہے کہ یہ خسارہ پورا کہاں سے کرنا ہے، حالیہ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بھی یہی ہے، اسی مجبوری نے حکومت کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں جس کی ذمہ دار بھی خود حکومت ہی ہے۔

جہاں ایک جانب بجلی چوری اور بیڈ گورننس ہے وہیں سولر بھی توانائی سیکٹر کی منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث سسٹم کیلئے درد سر بنتا جا رہا ہے، حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ سولر کو پروموٹ کرنا ہے یا سولر نیٹ میٹرنگ سے بجلی سستی خرید کر اس کی حوصلہ شکنی کرنی ہے، کیونکہ سولر صارفین جتنی بڑی تعداد میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں آئندہ دس برسوں میں صرف سولر صارفین کی وجہ سے چار ہزار ارب روپے کا اضافی بوجھ پاور سیکٹر پر پڑے گا اور اس کا خمیازہ عام صارف کو بھگتنا ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چند ہفتے قبل یہ فیصلہ کیا تھا کہ سولر نیٹ میٹرنگ سے بجلی 27 روپے فی یونٹ کی بجائے 10 روپے فی یونٹ میں خریدی جائے گی، کاروباری طبقے نے نئے سولر فارمولے کو مسترد کر دیا اور پرانی سولر پالیسی کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا، عوامی دباؤ کے باعث اس فیصلے پر عملدرآمد روک دیا گیا اور اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دیا گیا۔

بجلی بلوں کی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اس دوران حکومت نے کئی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، 2800 میگا واٹ کے چھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنے سے 65 ارب روپے تک کا ریلیف متوقع ہے۔

دوسری جانب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 13 روپے تک کا ریلیف بھی اسی لیے روک لیا تھا کہ اسے بجلی بلوں کے ریلیف میں منتقل کیا جا سکے، اس صورتحال میں حکومت نے یہ دعویٰ بھی کرنا شروع کر دیا کہ بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی ہونے جارہی ہے، جب آئی ایم ایف کے سامنے معاملہ رکھا تو معلوم ہوا کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں تو کمی صرف ایک حد تک ہی کی جا سکتی ہے، باقی ریلیف عارضی بنیادوں پر دیا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد جو پلان تیار کیا گیا اس کے تحت سہ ماہی بنیادوں پر فی یونٹ کمی ایک روپیہ اکہتر پیسے تک کا فیصلہ کیا گیا اور آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد حکومت نے بجلی کی قیمت میں کمی کیلئے نیپر ا میں درخواست جمع کروا دی، نیپرا نے حکومت کی اس درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کر لیا ہے اور کل سے اس کی باقاعدہ سماعت ہوگی، اس درخواست کے مطابق حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق اپریل سے جون تک کے بجلی بلوں پر کرنے کی تجویز دی ہے، اس صورتحال میں بجلی بلوں میں صرف 3 ماہ کیلئے ایک روپیہ اکہتر پیسے تک کا ریلیف آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

کاروباری طبقہ مہنگی بجلی کو انڈسٹری بند ہونے کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے جس کے باعث بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کاروباری طبقہ حکومت سے یہ مطالبہ بھی کر رہا ہے کہ نجی آئی پی پیز کے ساتھ ساتھ سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر بھی نظر ثانی کی جائے کیونکہ پاور سیکٹر پر بڑا بوجھ سرکاری آئی پی پیز ہیں، ان کے خیال میں اگر سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے تو بجلی فی یونٹ چار روپے تک سستی کی جا سکتی ہے۔

اس کٹھن صورتحال میں پاور سیکٹر اصلاحات کیلئے نیشنل ٹاسک فورس کا قیام بھی عمل میں لایا گیا، اس ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں کمی، بجلی کی دستیابی کو بہتر بنانا اور ایک مستحکم مسابقتی پاور مارکیٹ کا قیام ہے، آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی بھی اسی ٹاسک فورس کی ذمہ داری ہے۔

اب پارلیمان اور تقریبات میں وزرا سے سوالات ہونے لگے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کب اور کتنی ہو گی؟ کچھ ٹی وی چینلز پر خبریں بھی چلیں کہ حکومت فی یونٹ بجلی کی قیمت میں آٹھ روپے تک کمی کرنے جا رہی ہے۔ سوالات ہونے اور دباؤ بڑھنے پر حکومت کو وضاحت دینی پڑی کہ حکومتی سطح پر کبھی بھی کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ کمی کتنی ہوگی، بہر حال اب وہ وقت شاید آن پہنچا ہے کہ حکومت زیادہ نہ سہی مگر کسی حد تک بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔

آج وزیر اعظم شہباز شریف پاور سیکٹر سے متعلق اہم اعلان کرنے جا رہے ہیں، اس بات کا امکان ہے کہ وزیر اعظم نہ صرف وقتی بلکہ آنے والے چند ماہ میں مختلف مد میں ہونے والی فی یونٹ کمی سے متعلق بھی اعلان کر سکتے ہیں، وزیر اعظم کی جانب سے یہ اعلان حکومت کو سیاسی طو پر کسی حد تک فائدہ پہنچائے گا مگر ابھی تک توانائی سیکٹر کی گورننس میں بہتری کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کر کے اس ریلیف کو بجلی بلوں میں منتقل کرنا یا 1994ء کے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی عوام کو ایک محدود اور عارضی ریلیف دے سکتا ہے لیکن اگر اس بحران کا مستقل حل نکالنا ہے تو بجلی چوری روکنے کے ساتھ ساتھ سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ بھی معاملات طے کرنے ہوں گے کیونکہ سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی بڑی وجہ سرکاری آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹ بھی ہے۔