سینٹ کی نشست پر ضمنی انتخاب، پولنگ کا عمل جاری

Last Updated On 03 October,2018 09:03 am

لاہور: ( دنیا نیوز) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی چھوڑی ہوئی سینیٹ نشست پر ضمنی الیکشن کے لئے پولنگ کا عمل جاری ہے، پیپلزپارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ن کی حمایت کے اعلان کے بعد آزاد اراکین اہمیت اختیار کرگئے۔

 

تحریک انصاف کے ڈاکٹر شہزاد وسیم اور ن لیگ کے خواجہ احمد حسان میں کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے، 357 کے ایوان میں 180 ووٹ لینے والا جیت کا اہل ہوگا، ن لیگ کے خواجہ احمد حسان تحریک انصاف کے اتحاد میں نقب لگانے کیلئے کوشاں ہیں، دونوں جانب کے مسترد ووٹ اور غیر حاضر اراکین پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر سینیٹ الیکشن میں پریزائیڈنگ آفیسر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ پولنگ بغیر کسی وقفے کے چار بجے تک جاری رہے گی، اسمبلی کے ایوان کو پولنگ سٹیشن کا درجہ دیدیا گیا، مجموعی طور پر پنجاب اسمبلی کے 357 ارکان سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ ملتان سے رکن اسمبلی سلیمان نعیم کی نااہلی کے باعث تحریک انصاف کا ایک ووٹ کم ہوگیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے اتحاد کو 184 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ احمد حسان کو 162 میں سے 159 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور ن لیگ کے تین ارکان میاں جلیل شرقپوری، عظمیٰ قادری اور امینہ نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا، پیپلزپارٹی کے 7 ارکان سینیٹ الیکشن میں اپنے ووٹ کاحق استعمال کریں گے۔ اگر خواجہ احمد حسان آزاد اراکین اور حکومتی اتحاد کے چند ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں اس وقت تین آزاد اورایک راہ حق پارٹی کا رکن موجود ہے جو انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے خواجہ احمد حسان کے کئی اراکین سے پس پردہ رابطوں کا انکشاف ہوا ہے اور اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئے تو اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب عددی اعتبار سے تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر شہزاد وسیم کو برتری حاصل ہے۔