پی ٹی آئی کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار فائنل

Last Updated On 08 June,2018 10:46 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پارٹی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو ٹکٹس نہیں ملے وہ مایوس نہ ہوں بلکہ نئے پاکستان کی تعمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ہمارے ساتھ نکلیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی اسمبلی کے 173 اور صوبائی اسمبلیوں کے 290 امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ عمران خان این اے، 53، 35، 95، 131 اور 243 سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔

شاہ محمود قریشی این اے 156 ملتان سے میدان میں اتریں گے۔ فواد چودھری این اے 67 جہلم سے مقابلہ کریں گے۔ سابق وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور مراد سعید بالترتیب این اے 25 نوشہرہ اور این اے 4 سوات سے تحریکِ انصاف کے امیدوار ہوں گے۔

عبدالعلیم خان این اے 129 لاہور میں محاذ سنبھالیں گے۔ غلام سرور خان راولپنڈی کے دو حلقوں این اے 59 اور 63 سے مقابلہ کریں گے۔ عامر محمود کیانی این 61 راولپنڈی سے میدان میں اتریں گے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد این اے 125 لاہور اور اعجاز چودھری این اے 133 لاہور سے انتخاب لڑیں گے۔ شفقت محمود این اے 130 لاہور سے میدان میں اتریں گے۔ عثمان ڈار این اے 73 سیالکوٹ سے تحریکِ انصاف کے امیدوار ہوں گے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے 81 امیدواروں کو ٹکٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ سندھ کے فی الحال 21 حلقوں کیلئے امیدواروں کی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے 23 حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان جبکہ پنجاب کے 165 حلقوں کیلئے پارٹی ٹکٹس جاری کیے گئے ہیں۔

 

اس حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ آج پارلیمانی بورڈ نے زیادہ تر حلقوں کے لئے امیدواروں کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ ایک نہایت اہم مگر کٹھن مرحلہ تھا۔ ہمیں ساڑھے چار ہزار درخواستیں موصول ہوئیں لیکن یہ فطری امر تھا کہ سب کو ٹکٹس دینا ممکن نہیں تھا اور امیدواروں کا انتخاب مشکل مرحلہ تھا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم نے نہایت محنت اور دیانتداری سے فیصلے کئے اور جہاں ضرورت محسوس کی خفیہ انداز میں عوام اور کارکنان سے رائے طلب کی اور دیرینہ کارکنان اور پارٹی کیساتھ وفاداری کو فیصلہ سازی میں ملحوظ خاطر رکھا۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو ٹکٹس نہیں ملے انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم نے بہترین امیدوار میدان میں اتارنے کی کوشش کی۔ مایوس ہونے کی بجائے نئے پاکستان کی تعمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ہمارے ساتھ نکلیں۔

فردوس عاشق اعوان اور علی ترین کہاں سے الیکشن میں حصہ لیں گے؟ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

 

یاد رہے کہ سابق وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان نے ٹیکسلہ کے حلقہ این اے 63 سے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ اس حلقے سے پی ٹی آئی نے غلام سرور خان کو میدان میں اتارا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245 سے عامر لیاقت حسین جبکہ فیصل واوڈا کو این اے 249 سے ٹکٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

ادھر تحریکِ انصاف سے ٹکٹ نہ ملنے والوں نے مسلم لیگ (ن) سے رجوع کر لیا ہے۔ ق لیگ چھوڑ کر تحریک انصافِ میں شامل ہونے والے وقاص موکل ن لیگ کے آشیانے میں آ بیٹھے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے وقاص موکل کو ٹکٹ جاری نہیں کیا جس کے بعد انہوں نے اسی روز ہی ن لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ دوسری جانب لاہور سے عبدالرشید بھٹی تحریکِ انصاف سے ٹکٹوں کا اعلان ہوتے ہی ن لیگ میں آ گئے ہیں۔