وفاداریاں تبدیل اور نئے سیاسی اتحاد، عام انتخابات کا نقطہ آغاز

Last Updated On 09 June,2018 11:10 pm

لاہور:‌(دنیا نیوز) پاکستان میں عام انتخابات سے پہلے وفاداریوں کی تبدیلی معمول ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں بھی کئی سیاسی شخصیات نے پارٹیاں بدلیں۔

وفاداریاں تبدیل اور نئے سیاسی اتحاد بنانا پاکستان میں عام انتخابات کا نقطہ آغاز سمجھے جاتے ہیں۔ فافن FAFENکی انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے مرتب کردہ مرحلہ وار جائزہ رپورٹ کے مطابق جنوری دو ہزار اٹھارہ سے مئی کے وسط تک 334 بدلتے اور نئے ابھرتے سیاسی اتحاد یا سیاسی شخصیات کی جانب سے وفاداری بدلنے کے معاملات دیکھنے کو ملے۔

زیادہ تر مقامی سیاستدانوں نے جنرل الیکشن میں نامزدگی نہ ملنے پر پارٹی چھوڑی، ا س کے علاوہ حکمران جماعت اور حزب مخالف کی بڑی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے وفاداریاں تبدیل کی گئیں۔ یکم جنوری سے تیس مارچ تک پہلے مرحلے میں 169 سیاستدانوں نے پارٹیاں چھوڑیں یا لسانی اور برادری کی بنیاد پر نئے اتحاد بنائے۔

ان میں سب سے زیادہ74 سیاسی اتحاد کے پی میں بنے، پنجاب میں اٹھاون، بلوچستان اور سندھ میں تیرہ تیرہ جبکہ فاٹا میں گیارہ سیاسی اتحاد قائم ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں سیاسی شخصیات نے پی ٹی آئی یا عوامی نیشنل پارٹی جوائن کی۔

پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی سیاسی شخصیات نے وفاداریاں تبدیل کیں ۔2018 میں بلوچستان میں مختلف جماعتوں کے ہم خیال لوگوں کا گروپ ایک نئی سیاسی جماعت کی شکل میں سامنے آیا۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزار اٹھارہ کے وسط تک پنجاب میں مختلف جماعتوں سے تریسٹھ سیاسی شخصیات نے پی ٹی آئی جوائن کی، ستائیس نے مسلم لیگ نون اور دس نے پیپلز پارٹی سےا لحاق کیا۔


کے پی میں ایک مسلم لیگ نون، بیس تحریک انصاف اور اٹھارہ پیپلز پارٹی کےساتھ جڑے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا، جہاں نو سیاسی شخصیات پیپلز پارٹی، چھ تحریک انصاف جبکہ مسلم لیگ نون کو کسی نے جوائن نہیں کیا۔

فاٹا میں تین پیپلز پارٹی، دو تحریک انصاف اور پی ایم ایل این میں صرف ایک سیاسی شخصیت شامل ہوئی۔

بلوچستان میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی ایک ایک کے ساتھ توازن میں رہے۔